سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث گیلانی سلسلہ قادریہ کے بانی، تمام اولیاء کے پیر اور نجیب الطرفین سید ولی اللہ ہیں۔ ولایت اور روحانیت میں اپ کا مقام سلطان الفقراء کا ہے۔ اپ ایران میں پیدا ہوئے اور کچھ عرصہ بعد عراق اور بغداد کی طرف چلے گئے 40 سال جنگلوں میں اللہ کی تلاش میں گزارے اللہ کے حکم سے ہی دنیا میں واپس ا کر لوگوں کو تصوف اور روحانیت کی اصلی اور عملی تعلیم دی اسی دوران اپ سے کئی کرامات کا ظہور بھی ہوا جو یہاں لکھی جا رہی ہے، ان واقعات کا مقصد آپ کے دل کو اللہ والوں کی عظمت اور تصرف کا قائل کرنا ہے۔
عبدالقادر جیلانی کی جوانی کا واقعہ
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی جوانی کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ جب آپ طلبِ علم کی غرض سے ایران سے عراق جا رہے تھے، تو راستے میں ڈاکوؤں کا ایک گروہ آ گیا۔ وہ قافلے پر ٹوٹ پڑے اور سب کا سامان لوٹنے لگے۔ قافلے کے سب لوگ خوف کے مارے سہم گئے، لیکن آپ بالکل پرسکون کھڑے رہے۔ ایک ڈاکو آپ کے قریب آیا اور سخت لہجے میں بولا: “لڑکے! تمہارے پاس کیا ہے؟” آپ نے سادگی اور سچائی سے فوراً جواب دیا: “ہاں، میرے پاس چالیس دینار ہیں۔”
ڈاکو نے طنزیہ انداز میں کہا: “مذاق مت کرو! سچ بتاؤ، تمہارے پاس کیا ہے؟”
آپ نے نہایت سنجیدگی سے فرمایا: “میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ میرے بغل کے نیچے ایک جیب سی سلی ہوئی ہے، اسی میں چالیس دینار رکھے ہیں۔”
ڈاکو آپ کی سچائی سے حیران ہو گیا۔ وہ آپ کو اپنے سردار کے پاس لے گیا اور سارا واقعہ سنایا۔ سردار نے تعجب سے پوچھا: “لڑکے! تم نے یہ دولت کیوں نہیں چھپائی؟ ہر شخص اپنی جان اور مال بچانے کی کوشش کرتا ہے، تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟”
آپ نے رعب سے جواب دیا: “جب میں اپنے گھر سے رخصت ہو رہا تھا تو میری والدہ نے نصیحت کی تھی کہ بیٹا! ساری زندگی جھوٹ نہ بولنا۔ اگر میں آج جھوٹ بولتا تو اپنی ماں کی نافرمانی کرتا، اور میں اُن کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔”
یہ سن کر ڈاکو سردار کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ کہنے لگا: “تم اپنی والدہ کی نافرمانی نہیں کر سکتے، اور میں اپنے ربّ کی نافرمانی کرتا رہا ہوں!”
یہ کہتے ہی اُس نے فوراً توبہ کر لی اور اپنے تمام ساتھیوں کو بھی توبہ کی تلقین کی۔
یوں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی سچائی اور تقویٰ نے کئی گناہگاروں کے دل بدل دیے اور اُنہیں ہدایت کی راہ پر لے آیا۔
بچھو کے کاٹنے کا واقعہ
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے ایک رکاب دار ابو العباس احمد بن محمد بن احمد الکرسیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور غوثِ اعظمؒ سواری پر سوار ہو کر جامع منصوری کی طرف تشریف لے گئے۔ جب وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپؒ نے اپنی چادر اتاری اور اپنی پیشانی سے ایک بچھو نکال کر زمین پر ڈال دیا۔ جب وہ بچھو بھاگنے لگا تو آپؒ نے اسے عربی میں فرمایا: "مُتْ بأمرِ الله" یعنی "اللہ کے حکم سے مر جا۔"
آپؒ کا یہ فرمانا تھا کہ وہ بچھو اسی وقت مر گیا۔
پھر آپؒ نے فرمایا: "جامع منصوری سے واپسی تک اس بچھو نے مجھے ساٹھ مرتبہ ڈسا، مگر میں نے صبر کیا۔"
لاعلاج مریضوں کی شفا
شیخ ابو عبداللہ محمد بن خُفَر حسینیؒ بیان کرتے ہیں:
میں نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی خدمتِ اقدس میں تیرہ (13) سال تک حاضری کا شرف حاصل کیا، اور اس عرصے میں میں نے آپؒ کی بے شمار کرامات اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ جب کسی مریض کے علاج میں طبیب اور حکیم سب عاجز آ جاتے، تو لوگ اُس مریض کو حضرت غوثِ اعظمؒ کی خدمت میں لے آتے۔ آپؒ اُس کے لیے دعا فرماتے اور اپنا دستِ مبارک اُس پر پھیر دیتے۔
اللہ کے فضل و کرم سے وہ مریض اسی وقت تندرست ہو کر آپؒ کے سامنے اٹھ کھڑا ہوتا۔
بخار کے مریض کو شفا
ایک مرتبہ ابوالمعالی احمد البغدادی حنبلیؒ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
“حضرت! میرے فرزند محمد کو ڈیڑھ سال سے بخار ہے، جو کسی طرح سے اترتا نہیں، بلکہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔”
حضور غوثِ اعظمؒ نے فرمایا:
“تم اس کے کان میں جا کر کہو: اے بخار! تجھے عبدالقادر کہتا ہے کہ میرے لڑکے کو چھوڑ کر حلہ چلا جا۔”
انہوں نے حضورؒ کے حکم کے مطابق یہی الفاظ اپنے بیٹے کے کان میں کہے۔
فوراً بخار اُتر گیا، اور عین اسی وقت اہلِ حلہ اس بخار میں مبتلا ہو گئے۔
مفلوج کو شفا
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک تاجر، ابو غالب فضل بن اسماعیل بغدادیؒ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
“حضرت! میں آپ کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دیتا ہوں۔”
حضرت غوثِ اعظمؒ نے کچھ دیر سر جھکائے خاموشی اختیار فرمائی، پھر فرمایا “قبول ہے۔”
اس کے بعد آپؒ خچر پر سوار ہو کر ابو غالب کے مکان کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں پہلے ہی بغداد کے چند علماء اور مشائخ جمع تھے۔ دسترخوان بچھایا گیا، اور طرح طرح کے کھانے چن دیے گئے۔
اسی دوران دو آدمی ایک بڑا مٹکہ اٹھا کر لائے اور دسترخوان کے آخر میں رکھ دیا۔
حضور غوثِ اعظمؒ سر جھکائے خاموش بیٹھے تھے۔ آپؒ کی ہیبت اور عظمت کا یہ عالم تھا کہ محفل میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد آپؒ نے فرمایا:
“یہ مٹکہ میرے پاس لاؤ۔”
جب مٹکہ آپؒ کے سامنے رکھا گیا تو آپؒ نے حکم دیا:
“اس کا منہ کھولو۔”
جونہی مٹکہ کھولا گیا تو سب حیران رہ گئے — اس کے اندر ابو غالب تاجر کا ایک مفلوج، مجذوب اور مادرزاد نابینا لڑکا بیٹھا تھا!
حضور غوثِ اعظمؒ نے اُس لڑکے سے فرمایا:
“اُٹھ! تو اللہ کے حکم سے تندرست ہو جا۔”
یہ فرمان سنتے ہی وہ لڑکا فوراً اٹھ کھڑا ہوا، آنکھوں کی روشنی واپس آ گئی، اور وہ دوڑنے لگا۔
یہ منظر دیکھ کر حاضرین پر حیرت اور وجد کا عالم طاری ہو گیا، محفل میں شور برپا ہو گیا۔
اسی ہنگامے میں حضور غوثِ اعظمؒ خاموشی سے بغیر کچھ کھائے وہاں سے تشریف لے آئے۔
زبان کے اندر تاثیر
جب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو تبلیغ و ارشاد کی خدمت پر مامور فرمایا گیا اور آپؒ بغداد (عراق) تشریف لائے، تو آپؒ اکثر اوقات خاموش بیٹھے رہتے تھے۔
ایک روز حضور نبی کریم ﷺ روحانی طور پر آپؒ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
“اے عبدالقادر! تم خاموش کیوں رہتے ہو؟ خطاب کیا کرو، لوگوں کو نصیحت کیا کرو۔”
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! میں تو عجم (ایران) کا رہنے والا ہوں، عربی زبان مجھے اچھی طرح نہیں آتی، اور یہاں کے لوگ عرب ہیں، میں ان سے کس طرح گفتگو کروں؟”
یہ سن کر حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی مبارک زبان آپؒ کے منہ میں نو مرتبہ داخل فرمائی۔
پھر مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف لائے اور اپنی زبان مبارک آٹھ مرتبہ آپؒ کے منہ میں داخل فرمائی۔
اس کے بعد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زبان میں ایسی تاثیر اور قوتِ بیان پیدا ہوئی کہ جب آپؒ خطاب فرماتے تو ستر ستر ہزار لوگ ایک وقت میں آپؒ کی آواز سنتے۔
آپؒ جب بیان کا آغاز فرماتے، ابھی چند جملے ہی ادا کیے ہوتے کہ کئی سامعین پر وجد و حال طاری ہو جاتا،
اور بعض کی روحیں تک نکل جاتیں۔
آپ کا مزار مبارک
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا مزارِ مبارک بغداد شریف (عراق) میں واقع ہے، جو دنیا بھر کے عاشقانِ رسول ﷺ، صوفیا، علما اور عام مسلمانوں کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں دن رات زائرین کا ہجوم رہتا ہے، جو عقیدت و احترام کے ساتھ حاضر ہو کر فاتحہ پڑھتے، نذریں پیش کرتے اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ مزارِ اقدس پر روحانی انوار و تجلیات کا ایسا سماں ہوتا ہے کہ دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ آپؒ کے مزار کے قریب بیٹھ کر ذکر و دعا کرنے والوں کے دل نرم ہو جاتے ہیں اور ان کے باطن میں ایمان و عشقِ الٰہی کی روشنی جاگ اٹھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے صدیوں سے فیضانِ غوثِ اعظمؒ جاری و ساری ہے۔